جہاں نورد

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - دنیا میں گھومنے پھرنے والا، سیاح (کنایتہً) جہاں دیدہ، تجربہ کار۔ "اس کی رائے. اور اختراع جہاں نورد کے سامنے کس کی مجال اور ہمت تھی کہ اپنی رائے کا اظہار کرتا۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ فیروزشاہی (ترجمہ) معین الحق، ٦٥٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جہاں' کے ساتھ فارسی مصدر 'نوردن' سے مشتق صیغہ امر 'نورد' بطور لاحقہ فاعلی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٦٣ء میں "پیرامن طوطا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دنیا میں گھومنے پھرنے والا، سیاح (کنایتہً) جہاں دیدہ، تجربہ کار۔ "اس کی رائے. اور اختراع جہاں نورد کے سامنے کس کی مجال اور ہمت تھی کہ اپنی رائے کا اظہار کرتا۔"      ( ١٩٢٩ء، تاریخ فیروزشاہی (ترجمہ) معین الحق، ٦٥٩ )